نیپا وائرس (Nipah Virus): مکمل رہنمائی، علامات، اسباب، منتقلی، تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر

تعارف

نیپا وائرس ایک انتہائی خطرناک اور ابھرتا ہوا وائرس ہے جو انسانوں اور جانوروں دونوں میں بیماری پیدا کر سکتا ہے۔ یہ وائرس اپنی اعلی شرح اموات اور جانور سے انسان یا انسان سے انسان میں پھیلنے کی صلاحیت کی وجہ سے مشہور ہے۔ نیپا وائرس انفیکشنز زیادہ تر دماغ اور سانس کے نظام کو متاثر کرتے ہیں، جس سے شدید پیچیدگیاں اور موت واقع ہو سکتی ہے اگر وقت پر علاج نہ کیا جائے۔

چونکہ اس کا کوئی مخصوص علاج یا منظور شدہ ویکسین موجود نہیں، نیپا وائرس دنیا کے لیے ایک بڑا عوامی صحت کا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اسباب، علامات، منتقلی، تشخیص، علاج اور احتیاطی تدابیر کو سمجھنا بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے اور جانیں بچانے کے لیے ضروری ہے۔

healthsamajh.com

نیپا وائرس کیا ہے؟

نیپا وائرس
outbreak یہ وائرس پہلی بار 1999 میں ملائیشیا میں ایک

کے دوران دریافت ہوا، جہاں زیادہ تر متاثرین سور کے فارم مالکان تھے۔ اس کے بعد، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں کئی

رپورٹ ہو چکے ہیں، خاص طور پر بنگلہ دیش اور بھارت میں۔

نیپا وائرس کو biosafety level-4 (BSL-4) pathogen

کے طور پر درجہ دیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ انتہائی خطرناک ہے اور لیبارٹری میں زیادہ احتیاط کے ساتھ handle

کیا جاتا ہے۔

Nipha Virus english

نیپا وائرس کے قدرتی میزبان

.نیپا وائرس کے قدرتی میزبان fruit bats (چمگادڑیں)

جو بغیر علامات کے وائرس لے کر چلتی ہیں۔

یہ چمگادڑیں وائرس کو مختلف چیزوں پر منتقل کر سکتی ہیں

پھل

کھجور یا date palm sap

پانی کے ذرائع

انسان اس وقت متاثر ہوتا ہے جب وہ ایسے پھل یا مشروبات استعمال کرے جو چمگادڑ کے لعاب، پیشاب یا فضلے سے آلودہ ہوں۔

نیپا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

نیپا وائرس کے پھیلنے کے کئی طریقے ہیں، جو اسے بہت خطرناک بناتے ہیں۔

. جانور سے انسان میں منتقلی

انسان نیپا وائرس اس طرح حاصل کر سکتے ہیں

چمگادڑ کے آلودہ پھل کھا کر

خام کھجور کا رس پینے سے جو چمگادڑ سے آلودہ ہو

متاثرہ جانور جیسے سور سے براہ راست رابطے سے

. انسان سے انسان میں منتقلی

نیپا وائرس انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے

متاثرہ شخص کے قریب رہنے سے

سانس کی بوندوں کے ذریعے

جسمانی رطوبت جیسے تھوک، خون یا پیشاب سے

یہ بات خاص طور پر ہسپتال یا گھر میں قریبی رابطے میں ہوئی ہے۔

. ماحولیاتی سبب

غیر صفائی ستھرائی، بھیڑ بھاڑ والے حالات اور آگاہی کی کمی خطرے کو بڑھاتے ہیں۔

انکیوبیشن پیریڈ (Incubation Period)

نیپا وائرس کی علامات عموماً 4 سے 14 دن کے بعد ظاہر ہوتی ہیں، لیکن کچھ کیسز میں یہ 45 دن تک بھی جا سکتی ہیں۔ اس دوران متاثرہ شخص میں علامات نہیں آتیں، لیکن وہ وائرس پھیلانے کے قابل ہوتا ہے۔

نیپا وائرس کی علامات

علامات ہلکی سے شدید تک ہو سکتی ہیں اور بہت جلد بڑھ سکتی ہیں۔

ابتدائی علامات

تیز بخار

شدید سر درد

جسم میں درد

تھکن

الٹی اور متلی

سانس کی علامات

کھانسی

سانس لینے میں دشواری

چھاتی میں درد

سانس پھولنا

دماغی علامات

چکر آنا

ذہنی الجھن

زیادہ نیند آنا

دورے پڑنا

دماغ کی سوجن (Encephalitis)

بے ہوشی یا کوما

شدید صورتوں میں علامات 24–48 گھنٹوں میں بگڑ سکتی ہیں۔

نیپا وائرس خطرناک کیوں ہے؟

نیپا وائرس خطرناک ہونے کی چند وجوہات

اموات کی شرح 40%–75

کوئی منظور شدہ ویکسین موجود نہیں

کوئی مخصوص علاج موجود نہیں

بیماری کی رفتار تیز

انسان سے انسان میں پھیلنے کی صلاحیت

نیپا وائرس کی تشخیص

ابتدائی تشخیص مشکل مگر ضروری ہے۔

لیبارٹری ٹیسٹ

RT-PCR ٹیسٹ (وائرس RNA کی شناخت)

ELISA antibody ٹیسٹ

وائرس کا آئسولیشن (صرف high-security لیبارٹری میں)

امیجنگ ٹیسٹ

MRI یا CT اسکین دماغ کی سوجن کے لیے

Chest X-ray سانس کے مسائل کے لیے

تشخیص زیادہ تر اعلی حفاظتی لیبارٹری میں کی جاتی ہے کیونکہ وائرس بہت خطرناک ہے۔

نیپا وائرس کا علاج

فی الحال کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔

معاون علاج (Supportive Care)

ہسپتال میں آئسولیشن

آکسیجن یا وینٹیلیٹر سپورٹ

IV fluids

بخار اور درد کے لیے دوائیں

دماغ کی سوجن کا علاج

کچھ کیسز میں experimental طور پر ribavirin استعمال ہوا ہے، مگر مؤثر ثابت نہیں ہوا۔

You Tube vedio

آئی سی یو میں دیکھ بھال

شدید کیسز کے لیے

میں داخلہ ICU

مسلسل مانیٹرنگ

میکانیکی وینٹیلیشن

دماغی سپورٹ

ابتدائی معاون علاج زندگی بچانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

نیپا وائرس سے بچاؤ

ذاتی احتیاط

چمگادڑ کے کٹے ہوئے یا گرے ہوئے پھل نہ کھائیں

پھل اچھی طرح دھو کر کھائیں

خام کھجور کے رس سے پرہیز کریں

ہاتھ صاف رکھیں

کمیونٹی اقدامات

آگاہی کیمپین

محفوظ کھانے کی ہینڈلنگ

مناسب فضلہ مینجمنٹ

بیمار جانوروں سے دور رہیں

ہسپتال میں

PPE (ماسک، دستانے، گاؤن) استعمال کریں

مشتبہ مریض کو الگ کریں

انفیکشن کنٹرول پروٹوکولز سختی سے اپنائیں

عالمی سطح پر خطرہ

WHO نے نیپا وائرس کو priority disease

کے طور پر شامل کیا ہے۔
آنے والے climate change، deforestation اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے outbreaks

کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

جنوبی ایشیا میں نیپا وائرس

ہوئے ہیں زیادہ تر outbreaks

بنگلہ دیش

بھارت (کرلا)

ان علاقوں میں انسان سے انسان منتقلی بھی دیکھی گئی ہے

کیا نیپا وائرس کا علاج ممکن ہے؟

فی الحال

❌ کوئی علاج نہیں

❌ کوئی ویکسین نہیں

✅ صرف supportive care

جاری ہے۔ development تحقیق اور ویکسین کی

مریض میں طویل المدتی اثرات

کچھ میں survivors

یادداشت کا نقصان

دورے

شخصیت میں تبدیلی

دائمی تھکن

باقاعدہ ضروری ہے۔ follow-up

کب ڈاکٹر سے رابطہ کریں؟

فوراً طبی مدد لیں اگر

شدید بخار کے ساتھ ذہنی الجھن

شدید سر درد

سانس لینے میں دشواری

کسی اہل خانہ میں مشتبہ نیپا کیس

عمومی سوالات

کیا نیپا وائرس متعدی ہے؟
ہاں، یہ انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔

کیا یہ وائرس ہوا کے ذریعے پھیلتا ہے؟
کے ذریعے پھیلتا ہے۔ respiratory dropletsزیادہ تر قریب کے رابطے اور

کیا اس کا ویکسین موجود ہے؟
نہیں، ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین نہیں ہے۔

نتیجہ

نیپا وائرس دنیا کی سب سے خطرناک ابھرتی ہوئی بیماریوں میں سے ایک ہے۔
اس کی اعلیٰ شرح اموات، علاج کی کمی اور انسان سے انسان منتقلی کے خطرات کی وجہ سے یہ عالمی صحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔

آگاہی، بروقت تشخیص، موثر احتیاطی تدابیر اور مضبوط صحت کے نظام ہی واحد حل ہیں۔

سے بچ سکتے ہیں اور زندگی بچا سکتے ہیں۔ epidemics ہم نیپا وائرس سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ کر، مستقبل میں ممکنہ

healthsamajh.com

Leave a Comment