EEG ٹیسٹ (Electroencephalogram) – مکمل رہنمائی
EEG ٹیسٹ جسے Electroencephalogram بھی کہا جاتا ہے، ایک طبی معائنہ ہے جو دماغ میں پیدا ہونے والے قدرتی برقی سگنلز کو ریکارڈ اور تجزیہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس ٹیسٹ کی مدد سے ڈاکٹر دماغ کے کام کرنے کے طریقے کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور مختلف اعصابی بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں۔ EEG ٹیسٹ محفوظ، بغیر درد اور نان اِنویسیو ہوتا ہے۔
ٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟ EEG
EEG ٹیسٹ دماغی خلیات کے درمیان ہونے والی برقی سرگرمی کو نوٹ کرتا ہے۔ جب دماغ کے نیورونز آپس میں رابطہ کرتے ہیں تو برقی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ سر پر لگائے گئے چھوٹے الیکٹروڈز ان لہروں کو پکڑ کر مشین تک پہنچاتے ہیں، جہاں انہیں گراف کی شکل میں دیکھا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کیوں کیا جاتا ہے؟ EEG
EEG ٹیسٹ دماغ اور اعصابی نظام سے متعلق مسائل کی تشخیص اور نگرانی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ٹیسٹ کے اہم استعمالات EEG
مرگی اور دوروں (Seizures) کی تشخیص
دماغی رسولی (Brain Tumor) کی شناخت
نیند کی بیماریوں جیسے بے خوابی
سر پر چوٹ کے بعد دماغی حالت کا جائزہ
دماغی انفیکشن جیسے Encephalitis
بے ہوشی یا کوما کی وجوہات جاننے کے لیے
یادداشت کی کمزوری اور ذہنی الجھن کی جانچ

ٹیسٹ کی اقسام EEG
روٹین EEG
یہ عام ٹیسٹ ہوتا ہے جو تقریباً 20 سے 40 منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے۔
سلیپ EEG
یہ ٹیسٹ نیند کے دوران کیا جاتا ہے کیونکہ کچھ دماغی مسائل نیند میں زیادہ واضح ہوتے ہیں۔
ایمبیولیٹری EEG
اس میں مریض کو ایک پورٹیبل ڈیوائس دی جاتی ہے جو 24 سے 72 گھنٹے تک دماغی سرگرمی ریکارڈ کرتی ہے۔
ویڈیو EEG
اس ٹیسٹ کے ساتھ مریض کی ویڈیو بھی بنائی جاتی ہے تاکہ دوروں کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

ٹیسٹ کا طریقہ کار EEG
ٹیسٹ کا طریقہ سادہ اور محفوظ ہوتا ہے:
مریض کو آرام دہ حالت میں بٹھایا یا لٹایا جاتا ہے
سر پر چھوٹے دھاتی الیکٹروڈز لگائے جاتے ہیں
الیکٹروڈز EEG مشین سے جوڑے جاتے ہیں
مریض سے آنکھیں بند کرنے یا گہری سانس لینے کو کہا جا سکتا ہے
دماغی سرگرمی ریکارڈ ہونے کے بعد ٹیسٹ مکمل ہو جاتا ہے
یہ عمل عام طور پر 30 سے 60 منٹ میں مکمل ہوتا ہے۔
ٹیسٹ سے پہلے تیاری EEG
درست نتائج کے لیے درج ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
بال صاف اور خشک ہوں
تیل، جیل یا اسپرے استعمال نہ کریں
ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوائیں بند نہ کریں
اگر سلیپ EEG ہو تو دی گئی ہدایات پر عمل کریں
ٹیسٹ کے نتائج EEG
کے نتائج نارمل یا غیر نارمل ہو سکتے ہیں۔ EEG
نارمل نتائج
دماغی لہریں متوازن اور باقاعدہ ہوتی ہیں
کوئی غیر معمولی برقی سرگرمی نہیں ہوتی
غیر نارمل نتائج
مرگی یا دوروں کے آثار
دماغی چوٹ یا انفیکشن
رسولی یا فالج کی علامات
ڈاکٹر رپورٹ کو مریض کی علامات اور میڈیکل ہسٹری کے ساتھ ملا کر حتمی نتیجہ اخذ کرتا ہے۔
ٹیسٹ کے ممکنہ خطرات EEG
ٹیسٹ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ EEG
کچھ نایاب صورتوں میں روشنی یا گہری سانس لینے سے دورہ پڑ سکتا ہے، لیکن طبی عملہ فوراً صورتحال کو کنٹرول کر لیتا ہے۔
نتیجہ
EEG ٹیسٹ دماغی بیماریوں کی تشخیص کے لیے ایک اہم اور قابلِ اعتماد طریقہ ہے۔ چونکہ یہ ٹیسٹ بغیر درد اور محفوظ ہوتا ہے، اس لیے مرگی، نیند کے مسائل اور دیگر اعصابی امراض میں اسے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بروقت EEG ٹیسٹ درست علاج میں مدد دیتا ہے۔
EEG ٹیسٹ کروانا دماغی بیماریوں کی جلد تشخیص اور بہتر علاج میں مدد دیتا ہےبروقت
Test k Liye Unicare center tashrif lay click link
اہم نوٹ: یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں اور کسی ڈاکٹر کے مشورے کا نعم البدل نہیں۔

Health Samajh ek educational health blog hai jo Urdu aur English dono zabanon mein simple, clear aur trustworthy health information provide karta hai. Is blog ka maqsad logon ko general health, common diseases, healthy diet, fitness, lifestyle aur mental health jaise topics asaan alfaaz mein samjhana hai taa keh woh apni sehat ke hawale se behtar aur informed lifestyle choices kar saken. Health Samajh par maujood tamam content sirf educational aur informational purposes ke liye hota hai aur yeh professional medical advice ya doctor ka badal nahi.
“Very informative and well-explained article. The EEG test procedure is described in a simple and easy-to-understand way. This content is really helpful for patients and general readers. Keep sharing such useful health information.”