:بلڈ پریشر(Blood Pressure)
وہ خاموش دشمن جو ہمارے گھروں میں گھس چکا ہے
ہمارے ہاں پاکستان میں دو چیزوں کا چرچا ہر گھر میں ہوتا ہے—ایک سیاست اور دوسرا بلڈ پریشر۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم سیاست پر تو گھنٹوں بحث کرتے ہیں، مگر اس “خاموش قاتل” کو بالکل نظر انداز کر دیتے ہیں۔
پاکستان میں ہر تیسرا بندہ ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہے، لیکن ان میں سے اکثر کو تب پتہ چلتا ہے جب بات “ہاتھ سے نکل” جاتی ہے۔ آئیں آج ذرا سادہ زبان میں سمجھتے ہیں کہ یہ مسئلہ اصل میں ہے کیا اور ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں۔
یہ بلڈ پریشر آخر ہے کیا بلا؟ (Blood Pressure)
سوچیں کہ آپ کے گھر میں پانی کی موٹر چل رہی ہے اور پائپ کے ذریعے پانی ٹنکی میں جا رہا ہے۔ اگر پائپ اندر سے تنگ ہو جائے یا کچرا پھنس جائے، تو پانی کا دباؤ (pressure) بڑھ جاتا ہے اور پائپ پھٹنے کا ڈر ہوتا ہے۔
بس ہمارا جسم بھی ایسا ہی ہے۔ ہمارا دل ایک پمپ ہے اور ہماری رگیں وہ پائپ ہیں۔ جب خون ان رگوں میں بہت تیزی اور زور سے دوڑتا ہے، تو اسے ہم ہائی بلڈ پریشر کہتے ہیں۔
جب دل پورے زور سے خون کو دھکیلتا ہے۔
جب دل دھڑکنوں کے درمیان تھوڑا سا سستانا
ہم پاکستانیوں میں یہ اتنا زیادہ کیوں ہے؟
ہمارا رہنا سہنا اور کھانا پینا کچھ ایسا ہو گیا ہے کہ یہ بیماری اب ہر گھر کی کہانی بن چکی ہے:
چٹپٹے اور نمکین کھانے ہم پاکستانی کھانے کے شوقین ہیں۔ نہاری ہو، پائے ہوں یا جنک فوڈ—ان سب میں نمک اور مصالحے حد سے زیادہ ہوتے ہیں۔ نمک جسم میں پانی کو روک لیتا ہے اور پریشر بڑھا دیتا ہے۔
چائے اور سگریٹ کا چسکا: دن میں دس دس کپ چائے اور اوپر سے سگریٹ نوشی ہماری رگوں کو سخت کر دیتی ہے۔
- ہر وقت کی ٹینشن: ملکی حالات ہوں یا گھر کے اخراجات، ہم ہر وقت “سوچوں” میں گم رہتے ہیں۔ یہ ذہنی دباؤ ہمارے دل پر بہت بھاری پڑتا ہے
- ورزش سے دوری: ہم تھوڑی دور جانے کے لیے بھی بائیک یا رکشہ ڈھونڈتے ہیں۔ سستی ہماری سب سے بڑی دشمن ہے ۔
اسے “خاموش قاتل” کیوں کہتے ہیں؟
اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کی کوئی خاص نشانی نہیں ہوتی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ جب سر میں درد ہوگا یا چکر آئیں گے تب ہی بی پی ہائی ہوگا۔ مگر ایسا نہیں ہے!
اکثر لوگوں کا بلڈ پریشر اندر ہی اندر ان کے گردوں، آنکھوں اور دل کو ختم کر رہا ہوتا ہے اور انہیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ اسی لیے اسے “Silent Killer” کہا جاتا ہے۔
اس سے بچنے کا دیسی اور اثر دار طریقہ
ضروری نہیں کہ آپ پہلے دن سے ہی لمبی چوڑی دوائیاں شروع کر دیں۔ اگر آپ اپنی زندگی میں یہ 3 تبدیلیاں لائیں، تو کافی حد تک بچت ہو سکتی ہے
نمک سے توبہ کریں: سالن میں نمک کم رکھیں اور اوپر سے نمک ڈالنے کی عادت بالکل ختم کر دیں۔
- پیدل چلنا شروع کریں: دن میں کم از کم 20 سے 30 منٹ اتنا تیز چلیں کہ تھوڑا پسینہ آئے۔ یہ آپ کے دل کی “سروس” کرن کے برابر ہے۔
- غصہ اور تناؤ کم کریں: بات بات پر غصہ کرنا چھوڑیں۔ لمبے سانس لیں اور نیند پوری کریں۔ سکون سے رہنا بلڈ پریشر ک بہترین دوا ہے۔

بلڈ پریشر کی علامات: جب جسم خطرے کی گھنٹی بجاتا ہے
جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ اسے خاموش قاتل کہتے ہیں، لیکن جب بلڈ پریشر حد سے زیادہ بڑھنے لگے تو جسم کچھ اشارے ضرور دیتا ہے جنہیں پہچاننا ضروری ہے:
شدید سر درد: خاص طور پر صبح کے وقت سر کے پچھلے حصے میں بھاری پن محسوس ہونا۔
ناک سے خون آنا: اگر بغیر کسی چوٹ کے ناک سے خون بہنے لگے تو یہ ہائی بی پی کی علامت ہو سکتی ہے۔
دھندلا نظر آنا: آنکھوں کی باریک رگوں پر دباؤ پڑنے سے نظر کمزور یا دھندلی ہو سکتی ہے۔
سینے میں درد اور سانس پھولنا: تھوڑا سا چلنے پر دل کی دھڑکن تیز ہونا یا سینے پر بوجھ محسوس ہونا
Also read healthsamajh.com
پاکستانی خوراک اور بلڈ پریشر کا تعلق
ہمارے ہاں دسترخوان پر چکنائی اور نمک کا استعمال ضرورت سے زیادہ ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہم انجانے میں اپنے دل کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں:
1. ڈالڈا اور گھی کا بے جا استعمال: ہمارے کھانوں میں تری (oil) نہ ہو تو ہمیں کھانا ادھورا لگتا ہے۔ یہ چکنائی رگوں کے اندر جم جاتی ہے جس سے خون کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے اور دل کو زیادہ زور لگانا پڑتا ہے۔ کوشش کریں کہ کوکنگ آئل کی مقدار کم کریں اور زیتون یا سرسوں کا تیل استعمال کریں۔
2. بازاری مصالحے اور اچار: ڈبے والے مصالحوں اور اچار میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے تاکہ انہیں خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔ ایک چمچ اچار آپ کے پورے دن کے نمک کی ضرورت سے زیادہ نمک رکھتا ہے۔
3. کولڈ ڈرنکس اور میٹھا: صرف نمک ہی نہیں، چینی بھی بلڈ پریشر بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ زیادہ میٹھا کھانے سے وزن بڑھتا ہے اور خون کی رگوں میں لچک ختم ہو جاتی ہے۔
گھریلو نسخے اور احتیاطی تدابیر
دواؤں کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے کچن میں موجود ہیں اور بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں
لہسن کا استعمال: نہار منہ لہسن کا ایک جوا (clove) پانی کے ساتھ نگلنے سے خون پتلا ہوتا ہے اور پریشر کم ہوتا ہے۔
ادرک کا قہوہ: ادرک خون کی گردش کو بہتر بناتی ہے۔
- پانی کا زیادہ استعمال: جب جسم میں پانی کی کمی ہوتی ہے تو خون گاڑھا ہو جاتا ہے، اس لیے دن میں کم از کم 8 سے 10 گلاس پانی پینا چاہیے۔
بلڈ پریشر چیک کرنے کا صحیح طریقہ
اکثر لوگ غلط طریقے سے بی پی چیک کرتے ہیں جس سے ریڈنگ غلط آتی ہے اور وہ ٹینشن لے لیتے ہیں۔ صحیح طریقہ یہ ہے
چیک کرنے سے 30 منٹ پہلے چائے یا سگریٹ نہ پئیں۔
کرسی پر سیدھے بیٹھیں اور پیٹھ کو سہارا دیں۔
بازو کو میز پر رکھیں تاکہ وہ دل کے لیول پر ہو۔
چیک کرتے وقت بات چیت نہ کریں۔
اہم نوٹ: یہ معلومات صرف آگاہی کے مقصد کے لیے فراہم کی گئی ہیں اور کسی مستند ڈاکٹر یا ماہرِ صحت کے مشورے کا متبادل نہیں ہیں۔

Health Samajh ek educational health blog hai jo Urdu aur English dono zabanon mein simple, clear aur trustworthy health information provide karta hai. Is blog ka maqsad logon ko general health, common diseases, healthy diet, fitness, lifestyle aur mental health jaise topics asaan alfaaz mein samjhana hai taa keh woh apni sehat ke hawale se behtar aur informed lifestyle choices kar saken. Health Samajh par maujood tamam content sirf educational aur informational purposes ke liye hota hai aur yeh professional medical advice ya doctor ka badal nahi.
1 thought on “Blood Pressure: Why This One Number Could Change Your Life Forever”