NCS/EMG
ٹیسٹ: اعصابی بیماریوں کی تشخیص کا اہم ذریعہ
NCS (Nerve Conduction Study) اور EMG (Electromyography) جدید طبی تشخیصی ٹیکنالوجی کے دو اہم ٹیسٹ ہیں جو اعصابی اور عضلانی بیماریوں کی تشخیص میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ دونوں ٹیسٹ عام طور پر ایک ساتھ کیے جاتے ہیں تاکہ مریض کے اعصابی نظام کی مکمل تصویر حاصل کی جا سکے۔
کیا ہے؟ NCS (Nerve Conduction Study)

Nerve Conduction Study
ایک ایسا ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے اعصاب کی برقی سرگرمی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس ٹیسٹ میں چھوٹے برقی محرکات (electrical stimuli) استعمال کیے جاتے ہیں جو جلد پر لگے الیکٹروڈز کے ذریعے اعصاب کو دیے جاتے ہیں۔ ان محرکات کے جواب میں عصب (nerve) میں جو برقی سرگرمی پیدا ہوتی ہے، اسے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔
اس ٹیسٹ کے دوران ڈاکٹر دو پوائنٹس کے درمیان برقی سگنل کی رفتار (conduction velocity) اور ردعمل کے حجم (amplitude) کی پیمائش کرتے ہیں۔ اگر عصب کو کوئی نقصان پہنچا ہو یا وہ صحیح طریقے سے کام نہ کر رہا ہو تو اس کی رفتار اور حجم میں واضح فرق محسوس ہوتا ہے۔
کیا ہے؟ EMG (Electromyography)

Electromyography
ایک ایسا تشخیصی ٹیسٹ ہے جو پٹھوں کی برقی سرگرمی کا جائزہ لیتا ہے۔ اس ٹیسٹ میں ایک باریک سوئی پٹھے میں داخل کی جاتی ہے جو پٹھے کی برقی سرگرمیوں کو ریکارڈ کرتی ہے۔
جب پٹھا آرام کی حالت میں ہوتا ہے تو اس میں معمول کی برقی سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ جب مریض پٹھے کو سکڑتا ہے تو برقی سرگرمی میں واضح اضافہ ہوتا ہے۔ EMG ٹیسٹ کے ذریعے ڈاکٹر یہ تعین کر سکتے ہیں کہ آیا پٹھوں کی کمزوری یا دیگر مسائل کا تعلق خود پٹھوں سے ہے یا اعصاب سے۔
ٹیسٹ کیسے کیے جاتے ہیں؟ NCS/EMG
یہ ٹیسٹ عام طور پر نیورولوجسٹ (اعصابی امراض کے ماہر ڈاکٹر) یا تربیت یافتہ ٹیکنیشن کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ ٹیسٹ کے دوران مریض کو آرام دہ حالت میں بٹھایا یا لیٹایا جاتا ہے۔
NCS ٹیسٹ کے لیے ڈاکٹر جلد پر الیکٹروڈز لگاتے ہیں اور ایک چھوٹا سا برقی محرک دیتے ہیں۔ یہ محرک ایک ہلکی سی جھنجھناہٹ یا سنسنی پیدا کر سکتا ہے، لیکن یہ عام طور پر ناقابل برداشت نہیں ہوتا۔
EMG
ٹیسٹ کے لیے ڈاکٹر ایک باریک، جراثیم سے پاک سوئی کو پٹھے میں داخل کرتے ہیں۔ اس عمل میں ہلکی سی چبھن محسوس ہو سکتی ہے، لیکن یہ درد عام طور پر مختصر ہوتا ہے۔
ٹیسٹ کی مدت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ کتنے اعصاب اور پٹھوں کا جائزہ لینا ہے، لیکن عام طور پر یہ 30 منٹ سے 90 منٹ تک جاری رہ سکتا ہے۔
– ٹیسٹ کی تیاری NCS/EMG
ان ٹیسٹوں کے لیے خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن کچھ احتیاطی تدابیر ضروری ہ
- ٹیسٹ سے پہلے نہانے سے گریز کریں تاکہ جلد پر لوشن یا تیل نہ لگا ہو
- ڈاکٹر کو بتائیں اگر آپ خون پتلا کرنے والی ادویات (blood thinners)
یا دیگر امپلانٹ ہونے کی صورت میں ڈاکٹر کو اطلاع دیں Pacemaker
- ڈاکٹر کو تمام ادویات کے بارے میں بتائیں
ٹیسٹ کے مقاصد NCS/EMG
یہ ٹیسٹ مندرجہ ذیل حالات کی تشخیص کے لیے استعمال ہوتے ہی
.کارپل ٹنل سنڈروم: کلائی میں میڈین نرو کے دباؤ کی وجہ سے ہاتھوں میں سن ہونا اور درد
. پریریفرل نیوروپتی: اعصاب کے نقصان کی وجہ سے ہاتھوں اور پیروں میں سنسنی، درد یا کمزوری
. ریڈیکولوپتی: ریڑھ کی ہڈی سے نکلنے والی اعصاب کے دباؤ کی وجہ سے درد
. مایسٹینیا گریوس: ایک آٹومیمون بیماری جس میں پٹھوں کی کمزوری ہوتی ہے
. ماسکولر ڈسٹروفی: پٹھوں کی کمزوری اور خرابی کی موروثی بیماریاں
. ایمیوٹروفک لیٹرل سکلیروسس (ALS): اعصابی خلیوں کی ترقی پذیر بیماری
نتائج کی تشریح
NCS/EMG ٹیسٹ کے نتائج کی تشریح ایک تجربہ کار نیورولوجسٹ کرتا ہے۔ عام نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ اعصاب اور پٹھے معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ غیر معمولی نتائج مختلف حالات کی نشاندہی کر سکتے ہی
- سست اعصابی ترسیل: اعصاب کے غلاف (myelin sheath) کے نقصان کی نشاندہی
- کم ردعمل کا حجم: اعصابی ریشوں (axons) نقصان کی علامت
- غیر معمولی پٹھوں کی سرگرمی: پٹھوں یا اعصاب کی مختلف بیماریوں کی نشاندہی
خطرات اور پیچیدگیاں
NCS/EMG ٹیسٹ عام طور پر محفوظ سمجھے جاتے ہیں اور ان کے سنگین ضمنی اثرات نہیں ہوتے۔ تاہم، کچھ مریضوں کو درج ذیل مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے
- سوئی کی جگہ پر ہلکی سی چوٹ یا خون رسائی EMG
- کے برقی محرکات سے ہلکی سی بے چینی NCS
- حساس جلد والے افراد میں الیکٹروڈز سے ہلکی جلن
یہ ٹیسٹ حاملہ خواتین کے لیے عام طور پر محفوظ ہیں، لیکن ڈاکٹر کو حمل کی صورت میں ضرور بتانا چاہیے۔
ٹیسٹ کے بعد کی دیکھ بھال
ٹیسٹ کے بعد مریض عام سرگرمیاں فوراً دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
. Test k Liye Unicare center tashrif lay click link
اہم نوٹ: یہ معلومات صرف آگاہی کے لیے ہیں اور کسی ڈاکٹر کے مشورے کا نعم البدل نہیں۔

Health Samajh ek educational health blog hai jo Urdu aur English dono zabanon mein simple, clear aur trustworthy health information provide karta hai. Is blog ka maqsad logon ko general health, common diseases, healthy diet, fitness, lifestyle aur mental health jaise topics asaan alfaaz mein samjhana hai taa keh woh apni sehat ke hawale se behtar aur informed lifestyle choices kar saken. Health Samajh par maujood tamam content sirf educational aur informational purposes ke liye hota hai aur yeh professional medical advice ya doctor ka badal nahi.
Hey team healthsamajh.com,
Hope your doing well!
I just following your website and realized that despite having a good design; but it was not ranking high on any of the Search Engines (Google, Yahoo & Bing) for most of the keywords related to your business.
We can place your website on Google’s 1st page.
* Top ranking on Google search!
* Improve website clicks and views!
* Increase Your Leads, clients & Revenue!
Interested? Please provide your name, contact information, and email.
Bests Regards,
Ankit
Best AI SEO Company
Accounts Manager
http://www.bestaiseocompany.com
Phone No: +1 (949) 508-0277
Hi,
Register healthsamajh.com to GoogleSearchIndex and have it displayed in search results!
Add healthsamajh.com now at https://searchregister.org
Users search using AI more & more.
Add healthsamajh.com to our AI-optimized directory now to increase your chances of being recommended / mentioned.
List it here: https://AIREG.pro
Hi http://healthsamajh.com,
Just had a look at your site – it’s well-designed, but not performing well in search engines.
Would you be interested in improving your SEO and getting more traffic?
I can send over a detailed proposal with affordable packages.
Warm regards,
Sid