شوگر ٹیسٹ (بلڈ شوگر ٹیسٹ) – مکمل اور آسان رہنمائی
شوگر ٹیسٹ جسے بلڈ شوگر ٹیسٹ بھی کہا جاتا ہے، ایک نہایت اہم طبی ٹیسٹ ہے جو خون میں گلوکوز کی مقدار جانچنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ گلوکوز انسانی جسم کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے، لیکن اگر اس کی مقدار نارمل حد سے زیادہ یا کم ہو جائے تو یہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شوگر ٹیسٹ خاص طور پر ذیابیطس (Diabetes) کی تشخیص، نگرانی اور علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
بلڈ شوگر کیا ہے اور یہ کیوں ضروری ہے؟
بلڈ شوگر سے مراد خون میں موجود گلوکوز کی مقدار ہے۔ یہ گلوکوز ہماری روزمرہ خوراک، خاص طور پر کاربوہائیڈریٹس جیسے چاول، روٹی، پھل اور میٹھے سے حاصل ہوتا ہے۔ لبلبہ (Pancreas) انسولین نامی ہارمون خارج کرتا ہے جو گلوکوز کو خون سے خلیوں تک پہنچاتا ہے تاکہ جسم توانائی حاصل کر سکے۔
اگر انسولین کی مقدار کم ہو جائے یا جسم انسولین کو صحیح طرح استعمال نہ کر سکے تو گلوکوز خون میں جمع ہونے لگتا ہے، جس سے شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ یہی حالت ذیابیطس کہلاتی ہے جو دل، گردوں، آنکھوں اور اعصاب کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔
شوگر ٹیسٹ کیا ہوتا ہے؟
شوگر ٹیسٹ ایک سادہ خون کا ٹیسٹ ہے جس کے ذریعے خون میں شوگر کی سطح معلوم کی جاتی ہے۔ ڈاکٹر اس ٹیسٹ کی مدد سے یہ جانچتے ہیں کہ آیا شوگر لیول نارمل ہے، کم ہے یا زیادہ۔ یہ ٹیسٹ نہ صرف ذیابیطس کی تشخیص کے لیے بلکہ ذیابیطس کے مریضوں میں علاج کی نگرانی کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔
شوگر ٹیسٹ کی اقسام
فاسٹنگ بلڈ شوگر (FBS) ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ 8 سے 10 گھنٹے کے روزے کے بعد کیا جاتا ہے اور ذیابیطس کی تشخیص کے لیے سب سے زیادہ قابلِ اعتماد سمجھا جاتا ہے۔
- نارمل: 70–99 mg/dL
- پری ڈایابیٹس: 100–125 mg/dL
- ذیابیطس: 126 mg/dL یا اس سے زیادہ
رینڈم بلڈ شوگر (RBS) ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ دن کے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے، چاہے مریض نے کھانا کھایا ہو یا نہیں۔ اگر شوگر لیول 200 mg/dL یا اس سے زیادہ ہو اور علامات بھی موجود ہوں تو ذیابیطس کا امکان ہوتا ہے۔
HbA1c ٹیسٹ
HbA1c ٹیسٹ پچھلے دو سے تین ماہ کی اوسط شوگر لیول ظاہر کرتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔
- نارمل: 5.7% سے کم
- پری ڈایابیٹس: 5.7% – 6.4%
- ذیابیطس: 6.5% یا زیادہ
شوگر ٹیسٹ کن افراد کو کروانا چاہیے؟
جن افراد کو بار بار پیاس لگتی ہو
بار بار پیشاب آتا ہو
وزن تیزی سے کم یا زیادہ ہو رہا ہو
خاندان میں ذیابیطس کی ہسٹری ہو
حاملہ خواتین
موٹاپے یا بلڈ پریشر کے مریض
باقاعدہ شوگر ٹیسٹ بروقت تشخیص میں مدد دیتا ہے۔
Also read article;healthsamajh.com
شوگر ٹیسٹ کی علامات
مسلسل تھکن
نظر کا دھندلا ہونا
زخموں کا دیر سے بھرنا
ہاتھ پاؤں میں سن ہونا
زیادہ بھوک لگنا
ان علامات کو نظرانداز کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔

شوگر ٹیسٹ کا طریقہ کار
شوگر ٹیسٹ کا طریقہ نہایت آسان ہے
انگلی یا بازو کی رگ سے خون لیا جاتا ہے
کچھ ٹیسٹ کے لیے روزہ ضروری ہوتا ہے
ٹیسٹ چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے
رپورٹ عموماً 24 گھنٹوں میں مل جاتی ہے
علاج اور احتیاط
اگر شوگر لیول نارمل نہ ہو تو ڈاکٹر درج ذیل مشورے دے سکتے ہیں:
متوازن غذا
باقاعدہ ورزش
انسولین (ضرورت پڑنے پر)
باقاعدہ شوگر ٹیسٹ
نتیجہ
شوگر ٹیسٹ صحت مند زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بروقت تشخیص، درست علاج اور صحت مند طرزِ زندگی اپنا کر ذیابیطس کو کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ شوگر ٹیسٹ نہ صرف پیچیدگیوں سے بچاتا ہے بلکہ زندگی کے معیار کو بھی بہتر بناتا ہے۔
اہم نوٹ: یہ معلومات صرف آگاہی کے مقصد کے لیے فراہم کی گئی ہیں اور کسی مستند ڈاکٹر یا ماہرِ صحت کے مشورے کا متبادل نہیں ہ

Health Samajh ek educational health blog hai jo Urdu aur English dono zabanon mein simple, clear aur trustworthy health information provide karta hai. Is blog ka maqsad logon ko general health, common diseases, healthy diet, fitness, lifestyle aur mental health jaise topics asaan alfaaz mein samjhana hai taa keh woh apni sehat ke hawale se behtar aur informed lifestyle choices kar saken. Health Samajh par maujood tamam content sirf educational aur informational purposes ke liye hota hai aur yeh professional medical advice ya doctor ka badal nahi.